Friday, 4 July 2014

ایک شخص فرانس کے ائر پورٹ پر وضو کر رہا تھا تھا اس سے کسی نے پوچھا کہ آپ کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں اس نے کہا پاکستان سے ۔ سائل نے پوچھا کہ پاکستان میں کتنے پاگل خانے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے تعداد کا پتہ نہیں ویسے چند ایک ہی ہوں گے۔ سائل نے کہا کہ یہاں پر بہت زیادہ پاگل خانے ہیں اور میں یہاں کے ایک پاگل خانے کے ہسپتال میں ڈاکٹر ہوں۔ میری پوری عمر اس تحقیق میں گزری ہے کہ لوگ پاگل کیوں ہوتے ہیں؟ اور پاگل پن سے بچنے کے لیے کیا کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے ۔میری تحقیق کے مطابق جہاں اور بہت ساری وجوہات ہیں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی گردن کے پچھلے حصے کو خشک رکھتے ہیں۔ کھچاؤ کی وجہ سے رگوں پر اسکا اثر ہوتا ہے۔ جو لوگ اس جگہ کو وقتاً فوقتاً نمی پہنچاتے رہیں وہ پاگل ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ آپ نے ہاتھ پاؤں دھونے کے ساتھ ساتھ گردن کے پیچھے کے حصے پر بھی گیلے ہاتھ پھیرے۔ جس سے مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ آپ کو یہ طریقہ کس نے بتایا اس شخص نے بتایا کہ وضو کرتے وقت گردن کا مسح کیا جاتا ہے اور ہر نمازی دن میں پانچ مرتبہ گردن کا مسح کرتا ہے۔ اور یہ بات ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے ڈاکٹر کہنے لگا کہ اسی لئے آپ کے ملک میں لوگ کم تعداد میں پاگل ہوتے ہیں۔
اللہ اکبر۔ ایک ڈاکٹر کی پوری زندگی کی تحقیق نبی علیہ السلام کے بتائے ہوئے ایک چھوٹے سے عمل پر آ کر ختم ہو گئى

No comments:

Post a Comment